پھر یوں ہوا کہ بات اس کے برعکس نکلی
شاید وہ وہیں کھڑا مسکرا رہا تھا
مدہوشی سی چھا رہی ہے بدن میں
مانو جیسے دلدل میں سما جا رہا تھا
خشک غلاب ہونٹ جو رکھے اس نے عشق پر
چھاتی سے ران بھگوتا چلا جارہا تھا
اٹھائے لباس چوپڑا دور ایک کونے میں
چلائیں جیسے خودکشی کرنے جارہا تھا
بلا کر کان میں بولی پیار ہوگیا اقبال
جھکائے سر چونکہ عشق ختم ہوتا جا رہا تھا
A conversation in words
0 commentsLog in to join the conversation.