پھر یوں ہوا کہ بات اس کے برعکس نکلی
شاید وہ وہیں کھڑا مسکرا رہا تھا
مدہوشی سی چھا رہی ہے بدن میں
مانو جیسے دلدل میں سما جا رہا تھا
خشک غلاب ہونٹ جو رکھے اس نے عشق پر
چھاتی سے ران بھگوتا چلا جارہا تھا
اٹھائے لباس چوپڑا دور ایک کونے میں
چلائیں جیسے خودکشی کرنے جارہا تھا
بلا کر کان میں بولی پیار ہوگیا اقبال
جھکائے سر چونکہ عشق ختم ہوتا جا رہا تھا
Writer’s notebook
Share your writing ↗The writing of Malik Iqbal
Thoughts, feelings and moments shared with the community.
Your voice belongs here.
Share a thought, a poem or a story with the community.
Start writing ↗