وفا دل میں جگا کر ہے دکھانا
اسے اپنا بنا کر ہے دکھانا
ملے گی زندگی اس کے ہی در سے
وہیں تو سر جھکا کر ہے دکھانا
غزل ہے وہ غزل بھی خوب صورت
سو اس کو گنگنا کر ہے دکھانا
ادائے بے رخی آخر کہاں تک
کبھی تو مسکرا کر ہے دکھانا
یہی باسط محبت کی ہے طاقت
ذرا نظریں اٹھا کر ہے دکھانا
باسط ادیب
A conversation in words
0 commentsLog in to join the conversation.