وفا دل میں جگا کر ہے دکھانا
اسے اپنا بنا کر ہے دکھانا
ملے گی زندگی اس کے ہی در سے
وہیں تو سر جھکا کر ہے دکھانا
غزل ہے وہ غزل بھی خوب صورت
سو اس کو گنگنا کر ہے دکھانا
ادائے بے رخی آخر کہاں تک
کبھی تو مسکرا کر ہے دکھانا
یہی باسط محبت کی ہے طاقت
ذرا نظریں اٹھا کر ہے دکھانا
باسط ادیب
Writer’s notebook
Share your writing ↗The writing of Basit Adeeb
Thoughts, feelings and moments shared with the community.
کھونے کا کچھ ملال نہ پانے کا ہے ملال
دل کوتمھارے روٹھ کےجانے کا ہے ملال
اپنی غرض کا مارا ہوا ہر بشر یہاں
مطلب پرست ایسے زمانے کا ہے ملال
کشتی کو ڈوبنے سے خدا نے بچا لیا
پر ناخدا پہ آس لگانے کا ہے ملال
مجھ کو اندھیری رات کا غم ہے نہیں مگر
سائے کا ساتھ چھوڑ کے جانے کا ہے ملال
جن کا نصیب صبح بکھرنا تھا ٹوٹ کر
آنکھوں میں ایسے خواب سجانے کا ہے ملال
باسط لکھا تھا نام تمہارا کبھی جہاں
تحریر دل کی اب وہ مٹانے کا ہے ملال
باسط ادیب

Your voice belongs here.
Share a thought, a poem or a story with the community.
Start writing ↗