کھونے کا کچھ ملال نہ پانے کا ہے ملال
دل کوتمھارے روٹھ کےجانے کا ہے ملال
اپنی غرض کا مارا ہوا ہر بشر یہاں
مطلب پرست ایسے زمانے کا ہے ملال
کشتی کو ڈوبنے سے خدا نے بچا لیا
پر ناخدا پہ آس لگانے کا ہے ملال
مجھ کو اندھیری رات کا غم ہے نہیں مگر
سائے کا ساتھ چھوڑ کے جانے کا ہے ملال
جن کا نصیب صبح بکھرنا تھا ٹوٹ کر
آنکھوں میں ایسے خواب سجانے کا ہے ملال
باسط لکھا تھا نام تمہارا کبھی جہاں
تحریر دل کی اب وہ مٹانے کا ہے ملال
باسط ادیب
