وفا دل میں جگا کر ہے دکھانا
اسے اپنا بنا کر ہے دکھانا
ملے گی زندگی اس کے ہی در سے
وہیں تو سر جھکا کر ہے دکھانا
غزل ہے وہ غزل بھی خوب صورت
سو اس کو گنگنا کر ہے دکھانا
ادائے بے رخی آخر کہاں تک
کبھی تو مسکرا کر ہے دکھانا
یہی باسط محبت کی ہے طاقت
ذرا نظریں اٹھا کر ہے دکھانا
باسط ادیب
Writer’s notebook
Share your writing ↗The writing of Basit Adeeb
Thoughts, feelings and moments shared with the community.
Your voice belongs here.
Share a thought, a poem or a story with the community.
Start writing ↗